Home / Male sexual disorders / ویاگرہ سے طاقتور جڑی بوٹی

ویاگرہ سے طاقتور جڑی بوٹی

مردانہ طاقت کو 10 گنا بڑھانے والی وہ جڑی بوٹی جس پر تجربات کے بعد انگریز سائینسدان بھی اس کو ویاگرہ سے طاقتور مان گئے

دیسی جڑی بوٹیوں میں خدائے بزرگ و برتر نے بڑے قیمتی اثرات اور شفاء رکھی ہے۔ ان جڑی بوٹیوں سے عوام الناس کو بے حدوبے حساب فائدہ پہنچتا ہے۔ انہی جڑی بوٹیوں میں سے ایک بوٹی اسگندھ ہے۔ انگریزی میں اس کا نام وینٹر چیری ہے۔ دیگرنام۔پنجابی میں آکسن،بوگنی بوٹی،سندھی میں بھٖڈ گند،مرہٹی میں آمسن گند،گجراتی میں آکھ سندھ،بنگالی میں اشوگندھا،اورانگریزی میں ونٹرچیری۔ماہیت۔اس کا پودا دو ٰٰقسم کا ہوتاہے۔ایک چھوٹا لیکن جڑموٹی ہوتی ہے۔دوسری قسم بڑی دیسی ہوتی ہے۔اس کا پودا بڑا لیکن جڑپتلی اور چھوٹی ہوتی ہے۔دوسری قسم کے کھیت قبرستان اورکھنڈرات میں خودرو پیدا ہوتی ہے۔جڑایک سے آٹھ انچ تک لمبی اوراوپر سے پتلی گول چکنی اوراندر سے سفید باہر سے بھوری ہوتی ہے۔تازہ جڑ سے گھوڑے کے پیشاب کی طرح بوآتی ہے۔بطوردواء زیادہ تر مستعمل ہے۔یہ جتنی موٹی اور سفید ہوگی اتنی زیادہ اچھی ہوگی ۔اس جڑ کو جلدگھن کھاجاتی ہے۔مدت اثر دوسال سےپرانی جڑ میں ادویتہ قوت بہت کم ہوجاتی ہے۔
رنگ۔جڑ بھوری ذائقہ۔قدرے تلخ۔مقام پیدائش۔پاکستان میں پنجاب،سندھ،بلوچستان،سرحدمیں ہرمقام پرکم وبیش پیدا ہوتی ہے۔جبکہ بھارت میں باگوارعلاقہ راجستھان میں بہت پیدا ہوتی ہے۔اس کے علادہ بمبئی، اگ پو یوبی اور دہلی کے علاوہ اب کئی جگہ کاشت ہونے لگی ہے۔
مزاج۔گرم خشک درجہ سوئم؛افعال۔مبہی ومقوی،منقٰی رحم،محلل،مولدومغلظ منی ،مولد شیر ،مصلب پستان و ذکر۔استعمال۔مقوی باہ اورمبہی ہے۔باہ کو تقویت دیتا ہے۔مولد ومغلظ منی ہونے کے سبب جریان اوررقت منی میں اس کا سفوف بناکردودھ کے ساتھ استعمال کریں۔مقوی ومنقی رحم ہونے کے وجہ سے وضع حمل کے بعد استعمال کرایا جاتا ہے۔جس سے واضع حمل کے بعد کی پچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔محلل اورام ہونےکی وجہ سے بطورورموں کو تحلیل کرتا ہے۔اور اس کے تازہ پتے ورموں کو تحلیل کرتے ہیں۔وجع المفاصل میں داخلاًو خارجا استعمال کیا جاتا ہے۔اوراسکوسورنجاں کاقائم مقام خیال کیا جاتاہےمعین حمل کےلئے اسگندھ چار گرام روزانہ صبح اس کو شکراور دودھ کے ساتھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔خنازیر میں پانی میں پیس کر لیپ کر مفید ہے۔نفع خاص۔مقوی باہ اور دردوں کیلئے ۔مصلح۔گوندکتیرا،بدل۔بہمن سفید ۔کیمیاوی اجزاء۔روغن ،قلم دار الکوحل،شمی اجزاء ایک سو منفیرین نام کا جو ہر افعال ۔مقدارخوراک۔تین سے پانج گرام ۔مشہور مرکبات۔حب اسگندھ،معجون مقوی رحم ،سفوف جریان خاص۔نوٹ۔جڑ غیر سمی لیکن تخم اسگندھ زہریلے ہوتے ہیں۔ان کو آکسنڈ اور آکسن بھی کہتے ہیں۔

اجزائے ترکیب

اسگندھ ناگوری 4تولہ، زنجبیل 2تولہ، مرچ سیاہ4تولہ، فلفل دراز4 تولہ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ کوٹ کر سفوف تیار کرلیں۔ تج، الائچی خورد، پترج، لونگ ہر ایک 4تولے پیس کر علیحدہ رکھ لیں۔ بعد میں بھینس کا دودھ پانچ کلو، خالص چھوٹا شہد2کلو، گائے کا گھی آدھا کلو، مصری آدھا کلو۔
ترکیب تیاری:۔دودھ، گھی، شہد اور مصری کو کڑاہی میں ڈال کر چولہے پر چڑھائیں اور دھیمی آگ پر پکائیں۔ جب جھاگ آجائے تو اس میں اسگندھ، زنجبیل، مرچ سیاہ اور فلفل دراز کا سفوف شامل کرکے آگ پر رکھیں۔ جب دودھ کڑھنے لگے تو اس میں الائچی سمیت چاروں ادویات کا سفوف ڈال دیں اور کسی چمچ وغیرہ سے ہلاتے رہیں جب پنجیری سی بن جائے تو اتار لیں‘ پھر مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل سفوف تیار کرلیں۔

اجزاء:۔

پپلا مول۔ زیرہ سفید۔ گلو۔ جائفل۔ اساروں۔ صندل سفید۔ ناریل کی گڑی۔ ناگر موتھا۔ دھنیا۔ گل دھاوا۔ بنسلوچن۔ پوست آملہ۔ کافور بھیم سینی۔ سانٹھ کی جڑ۔ کتھہ۔ چترک۔ ستاور ہر ایک چھ چھ تولہ لے لیں۔ ان جملہ ادویہ کے اجزاء کو پیس کر سفوف بنالیں۔ تیار شدہ ادویہ کو پنجیری میں ڈال کر مکس کرکے محفوظ کرلیں۔

مقدار خوراک:۔

روزانہ مریض کو اسگندھ لاجواب بقدر دو تولہ کھلا کر اوپر سے گائے کا دودھ پلادیں۔ اس تحفہ اسگندھ لاجواب کے فوائد دیکھئے۔ بدن کی عام کمزوری اور لاغری کو دور کرکے فربہی پیدا کرتا ہے۔ چہرے کی بے رونقی اور پڑمردگی کو زائل کرکے اسے بارونق اور جاذب نظر بناتا ہے۔ آئے دن نت نئے امراض میں مبتلا ہونے والوں کے لیے یہ تحفہ نعمت خداوندی سے کم نہیں ہے۔ کھانسی اور دمہ کیلئے شفابخش اور مسلم الثبوت ہے۔ معدہ اور جگر کے امراض کے لیے بھی یہ تحفہ لاثانی ہے۔ معدہ اور جگر کے ضعف کو مٹاتا ہے۔ بْھس، کمی خون اور یرقان جیسے مہلک مرض کا قلعہ قمع کرتا ہے۔ تاپ تِلی، ورم طحال وغیرہ کی شکایات اور دیگر عوارضات میں ایک موٴثر، مسلمہ اور مجرب دواہے۔ پیٹ کے درد کے لیے ایک ہی خوراک جادو کا کام کرتی ہے۔ بواسیر خونی ہو یا بادی اس کے چندروزہ استعمال سے ختم ہوجاتی ہے۔ بچوں کی تمام امراض میں مفید اور صحت مند ہے۔ اس دوائی کی مقدارِ خوارک دو تولہ ہے۔ صبح خالے پیٹ یا رات کو سوتے وقت کھائیں۔ دوائی کھانے کے بعد گائے کا دودھ پاوٴ بھر پینا ہر حالت میں ضروری ہے۔ مریض اسے پانی سے ہرگز نہ کھائیں۔