Home / Male sexual disorders / قوت باہ کیا ہے اور مردانہ قوت باہ میں اضافہ کرنے کے قدرتی طریقے

قوت باہ کیا ہے اور مردانہ قوت باہ میں اضافہ کرنے کے قدرتی طریقے

قوت باہ کیا ہے اور مردانہ قوت باہ میں اضافہ کرنے کے قدرتی طریقے

شادی کے بعد مرد کو اپنی جنسی تسکین کی انجام دہی کے لیے جو قوت درکار ہوتی ہے اسے قوت باہ کہتے ہیں۔یہ قوت بعض مردوں میں زیادہ اوربعض میں کم ہوتی ہے۔ جس شخص میں یہ قوت جتنی زیادہ ہوتی ہے اُسے اِس عمل میں اتنا ہی زیادہ لطف آتا ہے۔ گرم علاقوں مثلاً عرب کے لوگوں میں شہوت زیادہ اور سرد علاقوں میں نسبتاً کم ہوتی ہے۔زمانہ قدیم سے انسان قوت باہ اور تولیدی صلاحیتوں میں اضافہ کی خواہش رکھتا ہے، مرد حضرات اپنی قوت باہ میں اضافے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم یہ انسانی خواہش آج بھی زمانہ قدیم کی طرح اپنی پوری شدت کے ساتھ قائم و دائم ہے۔اگر مرد میں قوت باہ کمزور ہو اور عورت میں شہوت زیادہ ہو تو ایسی حالت میں عورت کو آسودگی نہیں ہوتی ۔ایسی حالت میں عورت جماع سے بے رغبتی برتنے کے ساتھ ساتھ شوہر سے نفرت بھی کرنے لگتی ہے۔جس کی وجہ سے مرد حضرات مجبوراً ایسے طریقے اور ٹوٹکے ڈھونڈنے لگتے ہیں کہ جن کے استعمال سے وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کا خزانہ واپس حاصل کر سکیں۔بیہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب وہ جعلی حکیموں اور ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں،خدارا آج کل کے جعلی حکیموں اور ڈاکٹروں سے بچیں جو خود کو سیکس ایکسپرٹ کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی دواؤں میں اکثر افیون، دھتورا یا بھنگ وغیرہ ملی ہوتی ہے۔ جس سے وقتی فائدہ تو ہو جاتا ہے مگر بعد میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اور ان دواؤں کا مسلسل استعمال انسان کو قبر کے گڑھے تک پہنچا دیتا ہے۔اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ قوت باہ کیا ہے۔ قوت باہ کی کمزوری کی وجوہات اور علامات کیا ہیں؟مردانہ کمزوری کا دیسی علاج کیسے ممکن ہے قوت باہ میں اضافہ کرنے والی غذائیں کون کون سی ہیں؟

قوت باہ کی کمزوری کی وجوہات

کثرت جماع یا کثرت احتلام سے مردانہ طاقت میں خاصی کمی واقع ہو جاتی ہے.دل و دماغ جگر وغیرہ کے ضعیف ہو جانے سے یا پھر معدہ گردوں کے ضعیف ہو جانے سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے ڈپریشن ذہنی دباﺅ کی شدید ترین حالت ہے اس کا اثر بھی شدید ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ غم و غصہ اور ڈپریشن نامردی کی  وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے۔بعض ادویات کے سائیڈ افیکٹ سے قوت باہ میں کمی آ جاتی ہے۔ ان ادویات میں بلڈ پریشر کی ادویات، اینٹی ہسٹامین، ذہنی دباﺅ اور ڈپریشن کی ادویات شامل ہیں۔اکثر یہ شکایت عضو خاص میں کسی پیدائشی نقص یا بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔
منشیات کا زیادہ استعمال قوت باہ کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ نشے سے دل کی صحت متاثر ہوتی ہے جب دل اعضاء کو خون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کر پاتا تو کمزوری ہونا یقینی بات ہے۔فحش (گندی) فلموں میں دکھائے جانے والے غیر فطری اور غیر حقیقی مناظر نوجوانوں کے ذہن میں احساس کمتری اور کمزوری کا احساس پیدا کرتے ہیں جو انہیں نامرد بنا دیتا ہے۔قوت باہ کی کمزوری کی بڑی وجہ مشت زنی ہوتی ہے، مشت زنی کرنے والے افراد اپنے ہی ہاتھوں اپنی طاقت کو ختم کر دیتے ہیں۔

قوت باہ کا دیسی علاج

اگر آپ مردانہ کمزوری کا شکار ہیں اور اپنی قوت باہ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو جعلی حکیموں اور ڈاکٹروں کی دوائیں استعمال کرنے کی بجائے قدرتی غذاؤں سے کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ غذاؤں کے استعمال سے آہستہ آہستہ جو قوت حاصل ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف مستقل ہوتی ہے بلکہ اس میں استحکام بھی ہوتا ہے۔ اور ایسی قوت کے کوئی منفی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیسے آپ قدرتی غذاؤں کے استعمال سے اپنی قوت باہ میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ قوت باہ میں اضافے کے لیے آپ مندرجہ ذیل غذاؤں کا استعمال کر سکتے ہیں۔

نمبر1۔ لہسن اور قوت باہ

لہسن نہ صرف کثرت جماع یا عیاشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جنسی کمزوری اور نامردی کا بہترین علاج ہے۔ بلکہ یہ کسی بھی وجہ سے زائل ہو جانے والی جنسی طاقت کی بحالی کے لئے بھی بہترین ٹانک ہے۔ یورپ کے جنوب مشرقی حصہ میں لہسن کو تولیدی صحت کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔لہسن قوت باہ بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے، لہسن اور قوت باہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے اس کا استعمال زمانہ قدیم سے جاری ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ لہسن اگر سونے کے بھاؤ بھی ملے تو ضرور کھاؤ۔لہسن سے ان لوگوں کوبہت فائدہ ہوتا ہے جنہیں مباشرت کی خواہش پوری کرنے میں کسی قسم کی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ایچ کے باکرو اپنی تحقیق سے ثابت کرتے ہیں کہ جنسی اعتدال کی کامیابی میں لہسن بہت ہی مفید قدرتی ٹانک ہے۔ اس کا طریقہ استعمال نہایت ہی آسان ہے۔ صرف 2 سے 3 توریاں لہسن کی ہر صبح نگل لیں اور اس کے حیران کن نتائج سے لطف اندوز ہوں۔

نمبر2۔ پیاز کا استعمال

مردحضرات اپنی قوت باہ بڑھانے کے لئے مختلف طریقےاور حربے استعمال کرتے ہیں، لیکن اکثرانہیں ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔لیکن پیاز کے ذریعے سے حاصل ہونے والی قوت میں استحکام ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جس کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔ قدرت نے پیاز میں وہ خصوصیات پنہاں کیں ہیں کہ عقل گم ہوجاتی ہے۔جیسے اگر عضو بدن صحیح طرح سے کام نہ کررہا ہو تو پیاز اس کمزوری کو نہ صرف دور کرتا ہے بلکہ اسے قدرتی حالت میں واپس لانے میں بھی اہم کردار اداکرتا ہے۔قدیم مصری، رومن، یونانی اور عرب شہوت انگیزی کے لئے پیاز کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور آج بھی اس کے فوائد اپنی جگہ پر قائم و دائم ہیں۔پیاز لے کر اس کا ایک کلو پانی نکالیں اور اس میں ایک کلو شہد ڈال کر اس کو ہلکی آنچ پر پکائیں. اور جب پانی خشک ہو جائے تو اس کو اتار کا ٹھنڈا کر لیں. اور روزانہ صبح و شام دو دو چمچ دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔اس کے چالیس دن کے استعمال سے ایک نئی طاقت و جوانی ملے گی۔ اور مردانہ کمزوری اور اعصابی کمزوری ختم ہو جائے گی۔ اور قوت باہ میں بے انتہا اضافہ ہو جائے گا۔

نمبر3۔ انجیر کا استعمال

انجیر ایک ایسا پھل ہے جسے جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے جہاں لاتعداد فوائد ہیں وہیں یہ قوت باہ کے لیے بھی بے حد اکثیر ہے۔ قدیم علوم کے مطابق یونانی قوت باہ کو بڑھانے کے لئے انجیر کا استعمال کیا کرتے تھے اور آج جدید میڈیکل سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انجیر تولیدی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے، کیوں کہ یہ زنک، میگنیشیم اور میگنیز جیسے منرلز سے بھرپور ہوتی ہے۔مردانہ قوت کے لیے انجیر کا استعمال کیا جاتا ہے۔وہ انسان جسے شہوت نہیں آتی وہ صرف سات دن تک انجیر کو استعمال کرئے تو اس کو شہوت آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایک مٹی کا برتن لیں، اور اس میں پانی ڈال کر پانچ دانے انجیر بگھونے کے لیے رکھ دیں اور صبح نہار منہ انجیر کو کھالیں. اور پانی جس میں انجیر بھگوئی تھی. اس کو پی لیں. انجیر کو بھگونے سے اس کی تاثیر ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔

نمبر4۔ گاجر اور قوت باہ

گاجروں کی افادیت زمانہ قدیم سے ہی مسلم ہے۔ گاجروں کے دیگر طبعی فوائد کے علاوہ یہ مردانہ قوت بڑھانے کے لئے بھی بہت مفید ہے۔ گاجریں اور انڈے شہوت کو ابھارنے اور ٹائمنگ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔قوت باہ میں اضافے کے لیے اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ ایک پاؤ گاجریں کاٹ لیں اوراس میں ہاف بوائل انڈہ شامل کریں اور پھر شہد میں ڈبو کر کھائیں۔ صرف ایک ماہ روزانہ کے استعمال سے آپ کو وہ نتائج نظر آئیں گے جو بہت ہی حیران کن ہوں گے۔

نمبر5۔ بھنڈی کا استعمال

وہ لوگ جو مردانہ قوت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں انہیں چاہیے کہ بھنڈیوں کا استعمال شروع کردیں۔ قوت باہ کے لیےبھنڈی کا استعمال نہا یت مفید ہے۔ قوت باہ میں اضافے کے لیے اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ بھنڈی کو سکھا لیا جائے. اور جب اچھی طرح سوکھ جائے تو اس کا پاڈر بنالیں اس کو کوٹ کر اس کا سفوف بناکر اپنے پاس رکھ لیں۔اس سفوف کو روزانہ ایک تولہ نہار منہ تازہ پانی کے ساتھ کھا لیں۔ جو شخص وقفے وقفے سے اس کو کھاتا رہتا ہے۔ کبھی بھی مردانہ کمزوری کا شکار نہیں ہوتا۔ اور اس کے چند دنوں کے استعمال سے کھوئی ہو جوانی واپس لوٹ آتی ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بھنڈیوں کی جڑ کا سفوف بنالیں اور اسے دودھ میں ملا کر پئیں۔ روزانہ ایک گلاس آپ کو ایک نئی طاقت سے روشناس کرائے گا۔

نمبر6۔ چھوہاروں کا استعمال

چھوہاروں کو خشک کھجور بھی کہا جاتا ہے اور یہ آئرن کا گڑھ ہوتے ہیں۔ چھوہارے غیر معمولی طاقت کا منبع ہوتے ہیں جو شہوت کی طاقت کو بڑھاتے ہیں۔ اس کو استعمال کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔نیم گرم دودھ میں چند چھوہارے، بادام اور پستہ ڈال کر استعمال کریں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چوہارے، بادام اور پستہ کو ملا کر پیس لیں اور روزانہ دودھ کے ساتھ دو سے تین چمچ کھائیں۔اس کے چند دن کے استعمال سے آپ کو اپنی ذات میں ایسی حیرت انگیز تبدیلی محسوس ہو گی۔ جس کا تحریری شکل میں احاطہ کرنا مشکل ہے۔

نمبر7 زیتون کا تیل اور قوت باہ

مردانہ کمزوری کے شکار افراد جو اپنی قوت باہ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے زیتون کا تیل اور شہداکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مردانہ طاقت میں کمی کی شکایت کرنے والے حضرات اگر ان دونوں چیزوں کا استعمال با قاعدگی کے ساتھ کریں تو ان کی مردانہ طاقت یعنی قوت باہ میں اضافہ ہو گا۔ مردانہ کمزوریجاتی رہے گی۔اس مقصد کے لیے صبح و شام چار چمچ شہد ایک کپ بکری کے دودھ میں گھول کر پی لیں جب کہ دوپہر کے وقت بکرے کے کپورے زیتون کے تیل میں پکا کر مناسب مقدار میں کھائیں۔ چند دنوں کے بعد ہی جسم میں اس کا اثر محسوس ہو گا۔ اور مردانہ طاقت کی کمزوری کی شکایت ختم ہو جائے گی۔چند ماہ کے مسلسل اور باقاعدہ استعمال سے کبھی دوبارہ مردانہ کمزوری نہیں ہو گی۔سردیوں کے موسم بہتر نتائج کے لیے زیتون کے تیل سے نفس کی مالش بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ زیتون کا تیل لے کر اس کے ہم وزن لہسن اور چوتھائی دارچینی ڈال کر گرم کر لیں کہ لہسن جل کر کوئلہ ہو جائے۔ اب اس کو چھان کر اپنے پاس رکھ لیں اور اس تیل سے بیس منٹ تک عضو خاص کی اچھی طرح مالش کریں اور صبح اٹھ کر گرم پانی سے دھو لیں۔ ٹھنڈے پانی سے ہرگز نہ دھوئیں۔یاد رکھیں اِس عمل کے دوران روزانہ ایسی ورزش ضرور کریں جس سے آپ کے جسم سے پسینے کا اخراج ہو۔ ایک ماہ کے مسلسل استعمال سے نامردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا اور قوت باہ میں بے انتہا اضافہ ہو جائے گا۔

نمبر8۔ دیگر غذائیں جو قوت باہ میں اضافہ کرتی ہیں

قوت باہ میں اضافے ،احتلام اور جنسی طور پر ہونے والی کمزوری کیلئے ادرک سے بڑھ کر کوئی دوسری نعمت نہیں ہوگی۔ آدھا گلاس ادرک کا جوس لیں اور اس میں ایک ہالف بوائل انڈہ مکس کریں۔ اس میں ایک چمچ شہد ملا کر محلول بنالیں اور روزانہ اس کا استعمال آپ کو مردانہ کمزوری سے نجات دلاتا ہے۔
نامردی کا قدیم ترین چینی ذریعہ علاج اجوائن ہے، اس میں شامل اینڈروسٹیرونے نامی مردانہ ہارمون خاتون میں شہوت انگیزی کو بڑھا دیتا ہے۔ اپنی خصوصیات کے باعث اجوائن کو ویاگرا بوٹی کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔شکاگو کے سائنسدانوں کو کہنا ہے کہ کھیرے کی مہک خون کی گردش میں 13فیصد اضافہ کر دیتی ہے، جس سے قوت باہ کی فعالیت پر مثبت اثر مرتب ہوتا ہے۔سرخ مرچ الکالوئیڈ کیپسائیسن نامی مرکب سے بھرپور ہوتی ہے، جسے قوت باہ کو بڑھانے کا بہترین سمجھا جاتا ہے۔منقہ:قوت باہ میں اضافے کے لیے منقہ کا استعمال بھی عام ہے۔ کھٹا میٹھا منقہ قوت باہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ منقے کی مناسب مقدار لے کر دودھ میں ابال کر اس کا محلول بنالیں اور ایک شیشی میں بند کرلیں۔ روزانہ بیس گرام کھانے سے کھوئی ہوئی قوت واپس آجائے گی۔
یاد رکھیں! ذہنی دباؤ ،وزن میں اضافہ،نیند میں کمی، ڈپریشن اور منشیات کا استعمال جنسی ہارمون میں بے قاعدگی کا باعث بن کر جنسی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس لیے ذہن کو پرسکون رکھنے کیلئے مثبت طرز زندگی اپنائیں اور پانچ وقت کی باجماعت نماز ادا کریں۔ اس سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا اور آپ کی ورزش بھی ہو جائے گی۔قوت باہ کیا ہے – مردانہ قوت باہ میں اضافہ کرنے کے قدرتی طریقے سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ ضروری نوٹ: یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج (طبیب، ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔