Home / Fruit properties / تربوز کو کب اور کیسے کھانا چاہیے اس کے فائدے اور نقصانات حکیم بو علی سینا نے بتا دیا

تربوز کو کب اور کیسے کھانا چاہیے اس کے فائدے اور نقصانات حکیم بو علی سینا نے بتا دیا

تربوز کو کب اور کیسے کھانا چاہیے اس کے فائدے اور نقصانات حکیم بو علی سینا نے بتا دیا

رب کائنات کا خاص احسان ہے کہ نے انسان کی خوراک کو بھی موسموں کی مناسبت سے پیدا فرمایا، تاکہ انسان موسموں کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ تربوز کا شمار بھی ایسے ہی پھلوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف انسان کو گرمی کی شدّت و حدت کے اثرات سے بہت حد تک محفوظ رکھتا ہے بلکہ دیگر کئی بیش بہاء فوائد کا بھی حامل ہے۔ تربوز کو اگر رب تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے لئے گرمی کا تحفہ کہا جائے تو بے جاء نہ ہوگا۔ تربوز کو پنجابی میں ہندوانہ، عربی میں بطیخ، حجازی میں جھب، انگریزی میں واٹر میلن اور ترکی میں تاجور کہتے ہیں۔
دنیا کے بیشتر علاقوں میں تربوز کئی اشکال میں پیدا ہوتا ہے اور شکل کے اعتبار سے زیادہ تر گول اور لمبوترا ہوتا ہے، جبکہ رنگ کے اعتبار سے سبز جبکہ چھلکا سخت ہوتا ہے۔ تربوز تقریباً ہر علاقے میں پایا جاتا ہے لیکن خاص طور پر پاکستان، بھارت، شمالی بنگال اور افغانستان میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ شام اور فلسطین میں بھی پایا جاتا ہے۔ تربوز کے گودے کی رنگت سرخ، ذائقہ شیریں اور مزاج سرد تر ہوتا ہے اور اگر اسے خالی پیٹ استعمال کیا جائے تو بے حد فائدہ دیتا ہے۔ اسی طرح اگر تربوز کو شکر کے ساتھ ملا کر کھایا جائے تو مؤثر ہوتا ہے لیکن چاول کے ساتھ اس کا استعمال مضر ہوتا ہے، یعنی چاول کھانے سے پہلے کے بعد میں تربوز نہیں کھانا چاہئے۔تربوز معدہ میں صفرا کی مقدار کو کم کرتا ہے اور پیاس کو بجھاتا ہے۔ خصوصاً اپریل، مئی اور جون کی گرمی میں اس کا استعمال جسمانی حرارت اور گرمی کم کرنے کے لئے اکثیر کا درجہ رکھتا ہے۔ اطباء کے نزدیک بوڑھے اور سرد مزاج کے حامل افراد کو تربوز زیادہ نہیں کھانا چاہئے۔ تربوز میں پانی زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ گردے اور مثانے کی پتھری کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
شیخ الرئیس ابنِ سینا نے اپنی معروف کتاب ’’القانون‘‘ میں تربوز کے فوائد کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ معدے میں پہنچ کر انتہائی فائدہ مند صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے بیج جلد کی صفائی کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں اور اگر اس کے چھلکے کا لیپ پیشانی پر کر دیا جائے تو آنکھوں کے امراض کے لئے مؤثر ثابت ہوتا ہے۔پرانے زمانے اور موجودہ جدید دور کے طبیب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ توبرز کو کھانے کے فوری بعد استعمال نہ کیا جائے، اس صورت میں یہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور خصوصاً ہیضہ کی شکایت ہوسکتی ہے۔ تربوز کھانا کھانے سے کم از کم ۲ گھنٹے پہلے یا ۲ گھنٹے بعد کھانا چاہیئے۔کھانے کے فوری بعد اس کے استعمال سے قولنج (پیٹ کا درد) یا تخمہ کا احتمال ہے۔ حکیم مظفر حسین نے اپنی کتاب ’’المفردات‘‘ میں تربوز کو تپ صفراوی، سوزش بول، سوزاک، یرقان اور اسہال صفراوی میں مفید بتایا ہے۔
جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خون کے دباؤ کی زیادتی میں مغز تربوز کے اندر موجود خاص مادے ’’کوکر بوٹرین‘‘ سے بہت فائدے حاصل ہوتے ہیں، جس سے ۸۲ فیصد مریضوں میں دل پر سے بوجھ کم ہوتا ہے۔ تربوز کے بیج بدن کو فربہ کرتے ہیں، جبکہ خود تربوز میں ایک خاص قسم کا جزو ’’گلٹاتھی اون‘‘ موجود ہوتا ہے، جو سرطان کو بے بس کردیتا ہے۔ بعض ڈاکٹروں نے اس خاص جزو کو ایسے پہلوان سے تشبیہ دی ہے جو جسم کو نقصان پہنچانے والے خطرناک اجزاء کو پچھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ’’گلٹاتھی اون‘‘ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ سرطان کے خلیات کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ مادہ تربوز کے علاوہ دیگر پھلوں اور سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے، جس کے استعمال سے جسم کو بہت فائدہ ملتا ہے۔ جو لوگ ان سبزیوں اور پھلوں کو باقاعدہ استعمال کرتے ہیں ان میں سرطان سے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ تربوز بالخصوص ’’گلٹاتھی اون‘‘ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
تربوز کے استعمال سے آنتوں کی سختی میں کمی آتی ہے اور شریانوں کی لچک بھی قائم رہتی ہے۔ امام ابن القیم الجوزیہؒ اپنی کتاب ’’طبِ نبوؐی‘‘ میں تربوز کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تربوز کے بارے میں تمام احادیث غیر مستند ہیں سوائے اس حدیث کے جسے امام ابو داؤد اور امام ترمزی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ نبی کریمؐ تربوز کو اکثر کجھور کے ساتھ کھایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہم اس کجھور کی گرمی کو تربوز کی ٹھنڈک کے ذریعے اور تربوز کی ٹھنڈک کو کجھور کی گرمی کے ذریعے ختم کرتے ہیں۔ ( ابو داؤد، ترمزی)۔
دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تربوز کے کثرتِ استعمال سے جوڑوں کے درد اور بلغم کے امکانات ہوتے ہیں، اس لئے تربوز کو ہمیشہ اعتدال سے کھانا چاہیئے۔ تربوز کھانے کے فوری بعد سکنجبین دہی اور کوئی شربت یا چائے وغیرہ کسی بھی قسم کی چیز استعمال نہیں کرنی چاہئے۔